تحریر: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی|
پاکستان میں مشیِ اربعین 2026: عشقِ حسینؑ کے قدموں کی گونج
امسال 2026 میں پاکستان بھر میں اربعین حسینی کے موقع پہ منعقد ہونے والی مشیِ اربعین نے عشقِ امام حسینؑ، شعائرِ حسینی اور اجتماعی بیداری کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔
ملک کے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک ہزاروں عاشقانِ اہلِ بیتؑ نے نظم و ضبط، امن، اخوت اور عقیدت کے ساتھ اربعین واک میں شرکت کرکے یہ ثابت کیا کہ کربلا کا پیغام صرف ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ آج بھی ظلم کے مقابل حق، وفاداری، ایثار اور انسانی عظمت کا زندہ منشور ہے۔
یہ مشیِ اربعین نہ صرف سیدالشہداءؑ سے تجدیدِ عہد کا اظہار بنی بلکہ پاکستان میں شعائرِ حسینی کے فروغ، نسلِ نو کی فکری تربیت، قومی یکجہتی اور امام حسینؑ کے آفاقی پیغام کی مؤثر تبلیغ کا ایک روشن اور تاریخی مظہر بھی ثابت ہوئی۔
گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان بھر میں اربعینِ سیدالشہداءؑ کے موقع پر "مشیِ اربعین" یا "اربعین واک" کی صورت میں جو روحانی و اجتماعی تحریک پروان چڑھ رہی ہے، اس نے نہ صرف اہلِ بیتؑ سے محبت کے اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ فراہم کیا ہے بلکہ عزاداریِ امام حسینؑ کے دائرۂ اثر کو بھی مزید وسعت عطا کی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض حلقوں نے اس مبارک عمل کو ایک نئی رسم، بدعت یا روایتی عزاداری کے مقابل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ تاریخی، فقہی اور سماجی اعتبار سے یہ تصور درست نہیں۔
مشیِ اربعین کوئی نئی روایت نہیں
سب سے پہلے اس غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے کہ پیدل اربعین واک یا مشیِ اربعین کوئی آج کی ایجاد یا گزشتہ چند برسوں کا رجحان ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی مذہبی اور ثقافتی تاریخ اس کی تردید کرتی ہے۔
پاکستان، ہندوستان اور خصوصاً پنجاب، سندھ اور سرائیکی وسیب میں صدیوں سے مختلف مقدس مقامات کی طرف پیدل زیارتی سفر کی روایت موجود رہی ہے۔ سرائیکی علاقوں میں ایسی منوتی یا نذری پیادہ روی کو "مکانی" کہا جاتا تھا۔ لوگ منت پوری ہونے پر یا اظہارِ عقیدت کے طور پر میلوں پیدل سفر کرتے تھے۔ اسی طرح مختلف امام بارگاہوں، درباروں اور مزارات کی طرف بھی پیدل حاضری ایک معروف مذہبی روایت رہی ہے۔
لہٰذا اگر آج لاکھوں افراد امام حسینؑ کی یاد میں چند کلومیٹر یا کئی میل پیدل چلتے ہیں تو یہ کوئی اجنبی عمل نہیں بلکہ اسی روحانی روایت کا ایک بامقصد اور شعوری تسلسل ہے، جسے کربلا کی عالمی مشی نے نئی جہت عطا کی ہے۔
خود اربعین کی بنیاد ہی سفر اور زیارت ہے
اسلامی روایات میں اربعین کا سب سے نمایاں عنوان زیارتِ امام حسینؑ ہے۔
امام حسن عسکریؑ نے مؤمن کی پانچ علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ... وَزِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ."
یعنی مؤمن کی علامات میں ایک علامت زیارتِ اربعین بھی ہے۔
یہ روایت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اربعین صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ امام حسینؑ سے تجدیدِ عہد کا دن ہے، اور جب زیارت کے لیے سفر کیا جاتا ہے تو پیدل سفر اس محبت، اخلاص اور قربانی کے اظہار کی ایک فطری صورت بن جاتا ہے۔
جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے شروع ہونے والی روایت
تاریخ گواہ ہے کہ واقعۂ کربلا کے چالیسویں دن حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ مدینہ سے کربلا پہنچے تاکہ سیدالشہداءؑ کی زیارت کر سکیں۔ اگرچہ تاریخ یہ صراحت نہیں کرتی کہ پورا سفر پیدل تھا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اربعین کی اصل بنیاد زیارت اور سفر ہے، نہ کہ محض ایک مجلس یا رسمی اجتماع۔
بعد کے ادوار میں اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں نے اسی زیارتی روایت کو زندہ رکھا، یہاں تک کہ آج عراق میں دنیا کا سب سے بڑا پرامن انسانی اجتماع مشیِ اربعین کی صورت میں منعقد ہوتا ہے۔
پیدل چلنا محبت کی زبان ہے
انسان جب کسی عظیم ہستی سے محبت کرتا ہے تو اپنی محبت کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اپنے عمل سے بھی اس کا اظہار کرتا ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
"قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ."
اہلِ بیتؑ کی محبت صرف ایک قلبی کیفیت نہیں بلکہ عملی وابستگی کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر کوئی مؤمن امام حسینؑ کی محبت میں گرمی، سردی، تھکن اور مشقت برداشت کرتے ہوئے چند میل پیدل چلتا ہے تو یہ اسی مودت کا عملی اظہار ہے۔
مشیِ اربعین روایتی عزاداری کا نعم البدل نہیں
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔
بعض افراد نے مشیِ اربعین کو یوں پیش کیا جیسے یہ مجالس، جلوس، ماتم یا دیگر روایتی شعائر کا متبادل ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
مشیِ اربعین کیا ہے؟
مجلس کا متبادل نہیں۔
جلوس کی مخالفت نہیں۔
ماتم کا نعم البدل نہیں۔
روایتی عزاداری کے مقابل نہیں۔
بلکہ یہ انہی شعائرِ حسینی کا ایک تکمیلی اور تقویت بخش اظہار ہے۔
جو افراد مشی میں شریک ہوتے ہیں وہی مجالس میں بھی حاضر ہوتے ہیں، جلوسوں میں بھی شریک ہوتے ہیں، ماتم بھی کرتے ہیں اور دیگر تمام شعائر کو بھی زندہ رکھتے ہیں۔
اس لیے ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا نہ علمی رویہ ہے اور نہ ہی دینی مصلحت۔
قرآن کی روشنی میں شعائر کی تعظیم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ."
(الحج: 32)
ہر وہ عمل جو خدا کی یاد، دین کی بقا اور اولیائے الٰہی کی قربانیوں کی یاد تازہ کرے، شعائرِ الٰہی کے دائرے میں آتا ہے۔
اگر پیدل چلنے سے امام حسینؑ کا پیغام عام ہو، نئی نسل دین سے جڑے، معاشرے میں اخوت پیدا ہو اور لوگوں کے دل اہلِ بیتؑ کی محبت سے معمور ہوں تو یہ یقیناً شعائرِ الٰہی کی تعظیم کی ایک صورت ہے۔
عصرِ حاضر میں مشیِ اربعین کی ضرورت
آج کا نوجوان محض روایتی خطاب سے زیادہ عملی تجربات سے متاثر ہوتا ہے۔
مشیِ اربعین نوجوانوں کو:
نظم و ضبط سکھاتی ہے۔
خدمتِ خلق کا جذبہ دیتی ہے۔
صبر و استقامت کی تربیت کرتی ہے۔
اجتماعی عبادت کا شعور دیتی ہے۔
مختلف علاقوں اور طبقات کے مومنین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔
امام حسینؑ کے عالمی پیغام سے جوڑتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے ہر بڑے شہر، قصبے اور دیہات تک اس کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔
مخالفت کیوں کم ہوئی؟
ابتدائی برسوں میں بعض لوگوں نے اس تحریک کو غلط سمجھا۔ شاید انہیں خدشہ تھا کہ کہیں یہ روایتی عزاداری کو متاثر نہ کرے۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہوا۔
آج وہی افراد دیکھ رہے ہیں کہ:
مجالس پہلے سے زیادہ آباد ہیں۔
جلوس پہلے سے زیادہ منظم ہیں۔
نوجوان پہلے سے زیادہ متحرک ہیں۔
خواتین، بچے، بزرگ سب اس روحانی ماحول سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔
عزاداری کے دوسرے تمام مظاہر اپنی جگہ قائم ہیں۔
اسی شعوری تجربے نے بہت سی غلط فہمیوں کو دور کیا اور یہی وجہ ہے کہ امسال مخالفت نسبتاً کم دکھائی دی۔
اتحاد کا پیغام
امام حسینؑ کسی ایک علاقے، زبان یا قوم کے امام نہیں بلکہ پوری امت کے امام ہیں۔
لہٰذا ان کی یاد منانے کے مختلف جائز، شرعی اور باوقار طریقوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنانے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کا معاون سمجھنا چاہیے۔
جس طرح مجلس، جلوس، نوحہ، ماتم، نیاز، سبیل، قرآن خوانی اور زیارت سب مل کر عزاداری کی جامع تصویر بناتے ہیں، اسی طرح مشیِ اربعین بھی اسی تصویر کا ایک روشن رنگ ہے۔
مشیِ اربعین: محبتِ حسینؑ کا عملی اظہار
مشیِ اربعین محض چند کلومیٹر پیدل چلنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک فکری، روحانی اور تمدنی اعلان ہے کہ کربلا صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے حریت، وفاداری، قربانی اور بندگی کا زندہ مکتب ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شعائرِ حسینی کی مختلف صورتوں کو باہمی رقابت کا میدان بنانے کے بجائے انہیں امت کی وحدت، نسلِ نو کی تربیت اور امام حسینؑ کے عالمی پیغام کی اشاعت کا ذریعہ بنائیں۔
اگر ایک مجلس دلوں کو بیدار کرتی ہے، ایک جلوس اجتماعی شناخت پیدا کرتا ہے،
ایک ماتم غمِ حسینؑ کا اظہار ہے، تو مشیِ اربعین ان تمام جذبات کو قدموں کی زبان عطا کرتی ہے۔ یہ وہ زبان ہے جسے دنیا کی ہر قوم سمجھتی ہے، کیونکہ محبت جب عمل بن جائے تو وہی تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔
رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے محبت و عقیدت کا اظہار
اس سال کا اربعین ایک منفرد تاریخی اور جذباتی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ پہلا اربعین ہے جو امتِ مسلمہ، رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد منا رہی ہے۔ پاکستان بھر میں منعقد ہونے والی مشیِ اربعین نہ صرف حضرت امام حسینؑ کے آفاقی پیغامِ حق، آزادی اور مقاومت کی تجدیدِ عہد ہے بلکہ شہید رہبر کی اس فکری میراث سے وابستگی کا اظہار بھی ہے جس نے اپنی پوری زندگی ظلم و استکبار کے مقابلے میں حسینی فکر کو زندہ رکھنے کے لیے وقف کیے رکھی۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں لاکھوں عاشقانِ اہلِ بیتؑ کا مشیِ اربعین میں شرکت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ یہ قدم امام حسینؑ کے ابدی پیغام کے ساتھ ساتھ ان تمام شہداء کو بھی خراجِ عقیدت ہیں جنہوں نے حق و عدالت کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ مشی اس عزم کی تجدید ہے کہ حسینی راستہ، مزاحمت، عزت اور حق کی پاسداری کا سفر ہر دور میں جاری رہے گا۔









آپ کا تبصرہ